Quran ke Qissay, Quran ki Nazar se - Pehli Kitab - Adam (A.S.) by Iram Nasrullah — book cover

Quran ke Qissay, Quran ki Nazar se - Pehli Kitab - Adam (A.S.)

Iram Nasrullah
Rs 999
Title
1

About this book

قرآن کے قصے، قرآن کی نظر سے — پہلی کتاب: آدم علیہ السلام

یہ کتاب نفسِ انسانی کی تخلیق سے لے کر آدم و ابلیس کے قصے اور ان کی اولاد تک، پوری داستان قرآن ہی کی زبانی بیان کرتی ہے۔

قرآن سائنس کی کتاب نہیں اور نہ ہی دنیا کے علوم و فنون پر تبصرہ اس کا مقصود ہے۔ البتہ جب بھی کائنات اور اس کی مخلوقات سے متعلق حقائق کسی واقعے کی وضاحت میں بیان ہوئے ہیں، وہ ہر لحاظ سے درست ہیں — کیونکہ جس نے یہ سب کچھ تخلیق کیا، وہی اسے بیان کر رہا ہے۔

سیریز “قرآن کے قصے، قرآن کی نظر سے” کی یہ پہلی کتاب حضرت آدم علیہ السلام سے متعلق آیات کا تجزیہ پیش کرتی ہے: انسان کی تخلیق، اس کی پیدائش کا مقصد، اور اسے درپیش بڑی آزمائشیں۔

انسان کی تخلیق کے ساتھ ہی دو دیگر مخلوقات کا اس سے واسطہ پڑا — ایک نے اپنے رب کا حکم مانا، دوسرے نے سرکشی اختیار کی۔ یہیں سے برائی کی قوت وجود میں آئی، اور یہی انسان کی سب سے بڑی آزمائش ٹھہری۔ چنانچہ انسانوں ہی میں سے رہنما بھیجے گئے، جن کے ذریعے اللہ کا پیغام کبھی زبانی، کبھی تحریری، اور کبھی مفصل قانون و شریعت کی صورت میں نازل ہوا۔

اسی پہلے قصے میں انسانی فطرت کی پختگی نمایاں ہوتی ہے۔ ساتھ ہی یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ انسان کو کس نوعیت کے امتحان کا سامنا ہے، اس کا دشمن کون ہے، اس سے بچاؤ کس طرح ممکن ہے، اور اس کا رب اس سے کیا چاہتا ہے۔

یہ کتاب ان تمام باشعور قارئین کے لیے ہے جو مصروفیت کے باعث مکمل تفسیر کا مطالعہ نہیں کر پاتے، جو سوالات رکھتے ہیں اور قرآن سے جواب چاہتے ہیں، یا جو قرآن کو سمجھنا تو چاہتے ہیں مگر اسے دلچسپ نہیں پاتے۔ انہی سب کے لیے قرآن کے قصے ایک ترتیب کے ساتھ قرآن کی آیات سے بیان کیے جا رہے ہیں۔

Behind The Book

About the Author

2002 میں ایک حادثے کے نتیجے میں قرآن کی طرف متوجہ ہونے والی طالبِ راہ، ارم نصراللہ، کمپیوٹر سائنس میں ماسٹرز کی ڈگری رکھتی ہیں۔ کئی سال اسلام کے بنیادی ارکان، یعنی نماز و روزے تک محدود رہنے کے بعد انہوں نے قرآن فہمی کے سفر کا آغاز الہدیٰ سے تفسیرِ قرآن اور علمِ حدیث کے کورسز کرنے سے کیا۔ اس دوران عربی گرامر بھی سیکھی اور تلاوتِ قرآن میں اجازہ بھی حاصل کیا، مگر قرآن کے پیغام کو گہرائی سے سمجھنے کی تشنگی بدستور باقی رہی، جسے فراہی مکتبِ فکر سے وابستہ متعدد اساتذہ نے اپنی تفسیر و تعلیم کے ذریعے دور کیا۔

2019 سے قرآن کی تعلیم قصوں کی صورت میں پڑھانے کا آغاز کیا، اور یہ علمی سفر تاحال جاری ہے۔